چنتامنی:24 /ستمبر(محمد اسلم /ایس او نیوز )آج شہر کے جیل خانہ میں تعلقہ وکلاء یونین اور محکمہ پولیس کے زیر قیادت قیدیوں میں قانونی جانکاری پروگرام منعقدہ ہوا، پروگرام کاآغاز سیول کورٹ کی جج آر۔نٹیش نے شمع جلا کر کیا۔اس موقع پر جج نٹیش نے قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں بند شدہ قیدی جیل سے آزاد ہونے کے بعد دوبارہ غلطی نہ کرے کیونکہ ایک انسان کا قتل کرنا سب سے بڑا جرم ہے جس طرح ہماری جان ہے اسی طرح دوسرے لوگوں کی بھی جان ہے ۔جج نے کہا کہ چنتامنی کے جیل میں زیادہ تر قتل کے الزام میں آئے ہوئے قیدی ہے قیدی جیل سے رہا ہونے کے بعد کی گئی غلطی کااحساس کرلیں کے میں دوبارہ ایسی غلطی ہر گیز نہیں کرونگا ۔انہوں نے کہا کہ آج کل ملک بھر میں جرائم میں اضافہ باعث تشویش ہے خصوصا بچوں ،لڑکیوں کے خلاف جرم میں اضافہ ہورہا ہے جس کو روکنے کے لئے بچوں سے کیکر نوجوانوں تک کو تعلیم و تربیت اپنے گھر ہی سے شروع کرنا چاہئے ماں اپنے بیٹوں کو عورتوں کی عزت کرنا سکھائیں خواتین اور لڑکیوں کے تعلق سے انکی سوچ میں تبدیلیاں لائیں آج کے نوجوان بہت ہی سمجھدار اور خود اعتماد ہیں مگر وہیں کچھ افراد جرائم میں ملوث ہیں خصوصاعورتوں کے خلاف جنسی ہر اسانی معاملوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ،بعد سنئیر وکیل جے ایم ابرہیم نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں بند شدہ قیدی اپنے کئے گئے جرم کو قبول کرلیں تو ان کی سزا میں کمی کی جاسکتی ہے اُن کو جیل سے بہت جلد رہا کیا جاسکتا ہے اگر کوئی انسان جرم کرنے کے باوجود جرم کو قبول کرنے سے انکار کرے تو اُس کے سزا میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔اس موقع پروکلاء یونین کے تعلق صدر بائر ریڈی تحصیلدار گنگپا ڈی وائی ایس پی کرشنامورتی جیلر تیلوتما وکلاء یونین کے نائب صدرشنکر سکریٹری شیونندا ایڈوکیٹ سی ایس انور خان راجہ رام ،شرنیواس رمیش سمیت کئی وکلاء وغیرہ موجود رہے۔